بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا' جو کینٹ، جو امریکہ کے ایران پر حملے کے ناقدین میں سے ہیں، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صہیونی رجیم کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی تعلق پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ ایک بیرونی ریاست کی خواہش پر مشرق وسطیٰ میں ایک اور دلدل میں پھنس گیا ہے؛ ایسی دلدل جو ان کے بقول امریکی عوام کے مفادات کو نظرانداز کرتی ہے اور اسرائیل عزائم کی تکمیل کرتی ہے۔
کینٹ نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کی ایک ویڈیو پر اپنے ردعمل میں، نیتن یاہو کی اس پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں اس نے امریکی عوام سے مخاطب ہوکر لکھا تھا "ٹرمپ کو ووٹ دو"، اور لکھا: نیتن یاہو کے تئیں ٹرمپ کی کھلی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ ایک غیر ملکی رہنما امریکی صدر پر خصوصی اثر و رسوخ رکھتا ہے، اور امریکہ دائیں بازو کا ایک بڑا حصہ ٹرمپ کے اس اقدام پر خاموش ہے جو قابل مذمت ہے۔
انھوں نے ـ وائٹ ہاؤس پر ٹرانسجینڈر پرچم لہرانے سمیت ـ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت کے اقدامات پر قدامت پسندوں کے احتجاج کا حوالہ بھی دیا اور کہا: وہی لوگ جو پہلے ان اقدامات پر بجا طور پر تنقید کرتے تھے، اب ایک غیر ملکی رہنما کے امریکی صدر کے ساتھ خصوصی تعلق کے کھلے مظاہرے کے سامنے خاموش ہیں۔
اس امریکی ناقد نے زور دیا کہ وائٹ ہاؤس کو تمام امریکی عوام کا نمائندہ ہونا چاہئے اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات کی خدمت میں ہونا چاہئے، نہ کہ غیر ملکی ریاستوں کی خواہشات اور مفادات کی خدمت میں۔
کینٹ نے مزید کہا کہ امریکی ووٹروں کو توقع کی تھی کہ [ٹرمپ کے انتخاب کے بدولت] ان کے ملک کا راستہ درست ہو گا، مگر اب، ان انتخابات کے صرف دو سال بعد، امریکہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں ایسی جنگ میں ملوث ہو گیا ہے جو ان کے خیال میں کسی دوسری ریاست (اسرائیل) کے مفادات پوری کرتی ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ